| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ کا پردہ تھا جس سے گھر کا ایک گوشہ ڈھانک رکھا تھا ان سے حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا یہ پردہ ہم سے ہٹالو کیونکہ اس کی تصویریں نماز میں میرے سامنے آجاتی ہیں ۱؎ (بخاری)
شرح
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ غیرجاندار چیزوں کی صورتیں ہوں گی،اور اگر جاندار کے فوٹو بھی ہوں تب بھی شوقیہ یا احترام کے طور پر نہ تھے تاکہ اس پرکراہت کا حکم ہو۔خیال رہے کہ دیواروں پرغلاف ڈالنا جائز ہے اگرچہ بہتر نہیں،لہذا یہ حدیث ممانعت کی روایت کے خلاف نہیں۔شیخ فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ ممانعت سے پہلے کا ہوگا اور ہوسکتا ہے کہ الماری یا طاق پرحفاظت اشیاء کے لیے ڈالا گیا ہو،جیسے اب بھی ضرورۃً کیا جاتا ہے کہ بجائے کواڑ،ٹاٹ یا پردہ ڈال دیتے ہیں۔