| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول |
روایت ہے حضرت انس ابن مالک سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کی نماز اپنے گھر میں ایک نماز ہے اور قبیلے کی مسجد میں پچیس نمازیں اور جس مسجد میں جمعہ پڑھا جاتا ہے اس میں ایک نماز پانچ سو نمازیں اور مسجد اقصٰے میں ایک نماز پچاس ہزارنمازیں اور میری مسجد میں ایک نماز پچاس ہزار نمازیں اور مسجد حرام میں ایک نماز ایک لاکھ نمازیں ہیں ۱؎(ابن ماجہ)
شرح
۱؎ مرقاۃ نے فرمایا حدیث کا مطلب یہ ہے کہ گھر کی ایک نماز کا ثواب ایک نماز کے برابر ہے،اور محلہ کی مسجد میں ایک نماز کا ثواب گھر کی پچیس نمازوں کے برابر اور جامع مسجد کی ایک نماز محلہ کی مسجد کی پانچسو نمازوں کے برابر،اورمسجد بیت المقدس جو اسلام کا پہلا قبلہ تھی وہاں کی ایک نماز جامع مسجد کی پچاس ہزارنمازوں کے برابر،اور مسجد نبوی شریف کی ایک نماز بیت المقدس کی پچاس ہزار نمازوں کے برابر اور بیت اﷲ شریف کی ایک نماز مسجد نبوی کی ایک لاکھ نمازوں کے برابر۔مگر خیال رہے کہ یہ ثوابوں کا بڑا فرق ہے،رہی مقبولیت اور قرب الٰہی اس کا یہ حال ہے کہ مسجدنبوی کی ایک نماز بیت اﷲ شریف کی پچاس ہزارنمازوں کے برابر اسی لیے مہاجرین وانصارمسجد نبوی کی نمازکو دل وجان سے پسند کرتے تھے۔شعر مہاجر چھوڑ کر کعبہ بسے آکر مدینہ میں مدینہ ایسی بستی ہے مدینہ ایسی بستی ہے معلوم ہوا حضور کے قریب عبادات کا ثواب بڑھ جاتا ہے،اس لےک مسجد نبوی میں صف کا بایاں حصہ داہنے سے افضل ہے کیونکہ وہ روضۂ پاک سے قریب ہے۔خیال رہے کہ تاقیامت نمازوں کا یہ حال ہے مگر حضورکے پیچھے نمازوں کا ثواب اورمقبولیت ہمارے اندازے سے باہر ہے۔