| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو ابن عاص سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجدمیں داخل ہوتے تو یہ کہتے میں عظمت والے اﷲ کی پناہ لیتا ہوں اس کی ذات کریم اور اس کے پرانے غلبے کے ذریعے مردود شیطان سے ۱؎ فرمایا جب مؤمن یہ کہہ لیتا ہے تو شیطان کہتا ہے کہ یہ مجھ سے سارا دن محفوظ رہے گا۲؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ معلوم ہوا کہ خداکی صفات کو وسیلۂ دعا بنانا جائز ہے اور ہرشخص شیطان سے رب کی پناہ مانگے کوئی اپنے کو محفوظ نہ سمجھے۔آدم علیہ السلام معصوم تھے اور جنت خطہ محفوظ مگر پھربھی وہاں اس کا داؤ چل گیا تو ہم کس شمار میں ہیں،کہ نہ خودمحفوظ ہیں نہ ہمارے گھر اس سے محفوظ۔ ۲؎ معلوم ہوا کہ شیطان دعاؤں کو بھی جانتا ہے ان کے اثرات کو بھی۔تفسیر کبیر نے فرمایا کہ شیطان ہر نیک و بدعمل سے خبردار ہے اسی لئے ہر نیکی سے روکتا ہے ہر گناہ کراتا ہے،بلکہ ہر ایک کے ارادے سے مطلع ہے اسی لیے ہرایک کوبہکاتا ہے۔جب اس فسادی کے علم کا یہ حال ہے تو مصلح عالم کے علم کا کیا حال ہوگا۔یہ بھی معلوم ہوا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم بھی شیطان کے ہر حال اور اس کے ہر کلام سے مطلع ہیں۔