| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی نمازکوکھڑا ہوتو اپنے سامنے نہ تھوکے کہ وہ جب تک نمازمیں ہے اﷲ سے گفتگو کررہا ہے اور نہ داہنی طرف تھوکے کہ اس طرف فرشتہ ہے اپنی بائیں طرف یا پاؤں کے نیچے تھوکے کہ پھر اسے دفن کردے۔اور ابوسعیدکی روایت ہے کہ اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوکے ۱؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ رحمتِ الٰہی نمازی پرخصوصیت سے سامنے آتی ہے۔دوسرے یہ کہ نماز میں ضرورۃً داہنے بائیں منہ پھیرسکتا ہے کیونکہ اس تھوکنے کے لئےمنہ پھیرنے کی اجازت دی گئی۔تیسرے یہ کہ داہنے ہاتھ کا فرشتہ یعنی نیکیاں لکھنے والا بائیں ہاتھ کے فرشتے سے افضل ہے۔مرقاۃ نے فرمایا کہ دائیں ہاتھ والا حاکم ہے،بائیں والا محکوم،داہنے والا رحمت کا فرشتہ ہے،بایاں غضب کا۔چوتھے یہ کہ بڑوں کا ادب بھی بڑا ہے۔