۱؎ یعنی حضرت آدم و حوا کو شیطان مس نہ کرسکا کیونکہ وہ آدمی زادہ نہیں ہیں۔
۲؎ اس سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مستثنیٰ ہیں۔ایسے مقام پر متکلم مستثنیٰ ہوتا ہے۔تحقیق سے ثابت ہے کہ حضور روتے ہوئے پیدا نہ ہوئے۔(از اشعۃ للمعات)
۳؎ عیسیٰ علیہ السلام یعنی ان دونوں بزرگوں کو شیطان نہ چھو سکا جیسا کہ بخاری شریف میں ہے کہ پیدائش کے وقت شیطان بچے کی کوکھ میں انگلی مارتا ہے جس کی تکلیف سے بچہ چیختا ہے۔ان دونوں بزرگوں کی پیدائش کے وقت بھی شیطان نے یہ حرکت کی مگر اس کی انگلی حجاب میں لگی جو رب نے ان کے اور اس کے درمیان میں پیدا کردیا تھا۔اس حدیث کی تائید قرآن پاک کی اس آیت سے ہے۔:قَالَتْ اِنِّیۡۤ اُعِیۡذُہَابِکَ وَذُرِّیَّتَہَا مِنَ الشَّیۡطٰنِ الرَّجِیۡمِ "۔