۱؎ یعنی جوکچی پیازیاکچا لہسن کھائے تو جب تک منہ سے بو آتی ہو تب تک کسی مسجد میں نہ آئے،لہذا حقہ پی کر،کچی مولی یا گندناکھاکربھی نہ آئے،نیز جس کے کپڑوں یا منہ سے بدبو ظاہرہومسجد میں نہ آئے،گندہ دہن کا حکم بھی یہی ہے۔خیال رہے کہ تمام دنیا کی مسجدیں حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم کی ہیں،لہذا مَسْجِدُنَایعنی ہماری مسجد فرمانا درست ہے۔اس سے صرف مسجدنبوی مرادنہیں،جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔بعض روایا ت میں بجا ئے مَسْجِدُنَا کے اَلْمَسَاجِدُ ہے۔
۲؎ یعنی اگرمسجدانسانوں سے خالی بھی ہو تب بھی وہاں بدبُولے کر نہ جائے کہ وہاں رحمت کے فرشتے ہروقت رہتے ہیں اس کی بدبو سے ایذاء پائیں گے۔خیال رہے کہ مسجد کے فرشتے رحمت کے فرشتے ہیں،ان کی طبیعت نازک اوران کا احترام زیادہ ہے،لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ فرشتے تو ہر انسان کے ساتھ ہر وقت رہتے ہیں تو چاہیئے کہ کبھی یہ چیزیں نہ کھائے کیونکہ اﷲ تعالٰی نے ساتھی فرشتوں کی طبیعت اورقسم کی بنائی ہے۔علماءفرماتے ہیں کہ مسلمانوں کے کسی مجمع میں بدبو دار منہ یاکپڑے لےکر نہ جائے تاکہ لوگوں کو ایذاء نہ پہنچے۔