۱؎ ظاہر یہ ہے کہ شیطان سے مراد ابلیس ہے جو جنات کا مورث اعلٰے ہے اور ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد قرین شیطان ہو جو ہر انسان کے ساتھ رہتا ہے یا سارے شیٰطین۔
۲؎ یعنی نمازی سے اتنی دوربھاگ جاتا ہے جتنا مدینہ سے روحاء۔
۳؎ راوی سے مراد ابوسفیان طلحہ ابن نافع مکی ہیں۔وہ فرماتے ہیں کہ روحاءمدینہ منورہ سے مکہ کی جانب ۳۶ میل یعنی۱۲کوس ہے،اس سے شیطان کی قوت رفتار معلوم ہوئی کہ وہ پل بھرمیں ۳۶میل جا آسکتا ہے کیوں نہ ہوکہ وہ آتشی ہے۔آگ کی رفتار اگردیکھنا ہوتو آج بجلی کی رفتار دیکھ لو،جب نارکی یہ رفتارہے تو اولیاء اﷲ اورانبیاءکرام نوری لوگوں کی رفتارکا کیا پوچھنا،قرآن کریم فرمارہا ہے کہ بنی اسرائیل کے ولی آصف برخیا پلک جھپکنے سے پہلے یمن سے بلقیس کا تخت شام میں لے آئے،معراج کی رات سارے نبیوں نے بیت المقدس میں حضور کے پیچھے نماز پڑھی،حضور برق رفتار براق پرسوارہوکر پل بھرمیں آسمانوں پرپہنچے،تو یہ انبیاء پہلے پہنچ کر وہاں استقبال کے لیے حاضرتھے۔اس کی پوری بحث ہماری کتاب "جاءالحق"حصہ اول میں دیکھو۔