| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول |
روایت ہے حضرت عمرسے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مؤذن کہے اﷲ اکبر اﷲ اکبر تم میں سے کوئی کہے اﷲ اکبر اﷲ اکبر پھر مؤذن کہے اشھدان لا الہ الا اﷲ یہ بھی کہے اشہدان لا الہ الا اﷲ پھر مؤذن کہے اشہدان محمد ارسول اﷲ یہ بھی کہے اشہدان محمد ارسول اﷲ پھر مؤذن کہے حی علی الصلوۃ یہ کہے لا حول ولا قوۃ الا باﷲ پھر مؤذن کہے حی علی الفلاح یہ کہے لا حول ولا قوۃ الا باﷲ ۱؎ پھر مؤذن کہے اﷲ اکبر اﷲ اکبر تو یہ بھی کہے اﷲ اکبر اﷲ اکبر پھر مؤذن کہے لا الہ الا اﷲ تو یہ صدق دل سے کہے لا الہ الا اﷲ جنت میں جائے گا۲؎ (مسلم)
شرح
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ مؤذن سے مرادنماز کے لیے اذان دینے والاہے کیونکہ دوسری اذانوں کا جواب دینا سنت سے ثابت نہیں۔اَحَدُکُمْ سے مراد ہروہ مسلمان ہے جوجواب اذان دینے پرقادرہو،لہذا ا س سے نماز پڑھنے والا،استنجا کرنے والا وغیرہ علیحدہ ہیں۔بہتریہ ہے کہ جواب دینے والا"حَیَّ عَلَی الصَّلوٰۃ،حَیَّ عَلَی الْفَلَاحْ"بھی کہے اور لاحول بھی پڑھے تاکہ اس حدیث پربھی عمل ہوجائے اورگزشتہ پربھی۔اس وقت لاحول پڑھنا اس لیے ہے تاکہ شیطان دور رہے اورنمازکی حاضری آسان ہو۔ ۲؎ ظاہر یہ ہے کہ مِن قلبہٖ کاتعلق سارے جواب سے ہے،یعنی اذان کا پورا جواب سچے دل سے دے کیونکہ بغیراخلاص کوئی عبادت قبول نہیں۔اگر جنت سے وہی جنت مراد ہے جو قیامت کے بعد ملے گی تو دَخَلَ بمعنی مستقبل ہے اوراگر جنت سے مراد دنیا کی جنت ہے،یعنی عبادات کی توفیق،اچھی زندگی تو دَخَلَ ماضی کے معنی میں ہے،رب فرماتا ہے:"وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتَانِ"یعنی اﷲ سے ڈرنے والے کے لئے دو جنتیں ہیں:ایک دنیا میں،ایک آخرت میں۔(مرقاۃ)