| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول |
روایت ہے حضرت عبدالرحمن بن سعدبن عماربن سعدمؤذن رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے ۱؎ فرماتے ہیں مجھے میرے والدنے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے دادا سے روایت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال کو حکم دیا کہ اپنی انگلیاں کانوں میں دے لیں فرمایا یہ عمل تمہاری آواز کو بلند کرنے والاہے۲؎(ابن ماجہ)
شرح
۱؎ یہ سعدقرظی ہیں جو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجدقبا کے مؤذن تھے اورحضور کے بعدحضرت بلال کی جگہ آپ مسجد نبوی میں مؤذن ہوئے۔خیال رہے کہ سعدقرظی صحابی ہیں اورعمار ابن سعدتابعی اور عبدالرحمن ابن سعد کاحال معلوم نہ ہوسکا۔(اشعہ) ۲؎ یعنی انگلیاں کانوں میں ڈالنے سے آوازبلندنکلتی ہے اوراس اذان میں بلند آوازچاہیئے،اس لیے ڈال لیا کرو۔اس سے معلوم ہوا کہ بچے کے کان میں اذان کے وقت انگلیاں کانوں میں لگانا سنت نہیں۔یوں ہی اقامت(تکبیر)میں،یوں ہی ہر اس جگہ جہاں بلندآوازمطلوب نہ ہو،لیکن اگر لاؤڈ اسپیکر پراذان کہی جاوے تو انگلیاں لگالے کہ یہاں بلندی آواز مطلوب ہے۔اذان قبر پر انگلیاں لگائے کہ وہاں بلند آوازمطلوب ہے اس اذان سے شیاطین بھاگتے ہیں۔