Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول
610 - 728
الفصل الثالث

تیسری فصل
حدیث نمبر :610
روایت ہے حضرت ابن عمرسے فرماتےہیں کہ جب مسلمان مدینہ آئے تو جمع ہوکر اوقات نماز کا اندازہ لگالیتے تھے نمازوں کی اذان کوئی نہ دیتا تھا ایک دن اس بارے میں مشورہ کیابعض نے کہا کہ عیسائیوں کے ناقوس کی طرح بنالو اوربعض بولے کہ یہودکے بِگل کی طرح بنالوتب حضرت عمرنے فرمایاکسی کو نمازکی منادی کرنے کیوں نہیں بھیج دیتے ۱؎  تب حضورانورصلی اللہ علیہ  وسلم  نے فرمایابلال اٹھونماز کی منادی کرو۲؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎  محلوں میں جا کر پکار آئے "اَلصَّلوٰۃُ جَامِعَۃٌ" مسلمانوں نماز تیار ہے،یہ وہ شرعی اذان نہ تھی جو اب رائج ہے وہ تو حضرت عبداﷲ ابن زید کی خواب پر کہلوائی گئی جیسا کہ اگلی حدیث میں آرہا ہے،لہذا  احادیث میں تعارض نہیں،اسی لےمآپ نے عرض کیا "اَوَلَا تُبْعَثُوْنَ" تم لوگ بھیجتے کیوں نہیں۔

۲؎  مسلمانوں کے محلوں میں جا کر،اس حدیث کی بناء پربعض مؤرخین نے دھوکا کھایا کہ انہوں نے اذان کو حضرت عمر کی رائے سے سمجھا،درست وہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا۔
Flag Counter