روایت ہے حضرت زیدبن ثابت سے اورعائشہ صدیقہ سے فرماتے ہیں کہ بیچ والی نمازظہر ہے ۱؎ مالک نے زیدسے اورترمذی نے ان دونوں سے تعلیقًا روایت کی۲؎
شرح
۱؎ کیونکہ وہ دن کے وسط میں اداہوتی ہے۔غالبًا ان بزرگوں نے لغوی معنے کے لحاظ سے اسے "صلوۃ وسطیٰ" مانا،ان تک گزشتہ حدیث مرفوع نہ پہنچی۔صحابہ کرام کا"صلوۃ وسطیٰ"کے بارے میں بڑا اختلاف ہے،بعض نے فرمایا کہ وہ فجرہے،بعض کے نزدیک ظہر،بعض کے خیال میں مغرب یاعشاء،مگرعصر کے قول کو ترجیح ہے۔ ۲؎ بغیراسناد حدیث بیان کر نے کو تعلیق کہتے ہیں،جیسے امام ترمذی فرمائیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ نے یہ فرمایا۔