| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول |
روایت ہے حضرت جندب قسری سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جوفجر کی نماز پڑھ لے وہ اﷲ کی امان میں ہے ۱؎ لہذا تم سے اﷲ اپنی امان کے بارے میں کچھ مواخذہ نہ کرے۲؎کیونکہ اﷲ تعالٰی جب کسی سے اپنے عہد کا مواخذہ کرے گا تو اسے پکڑلے گا پھر اسے اوندھے منہ دوزخ کی آگ میں ڈال دے گا(مسلم)اورمصابیح کے بعض نسخوں میں بجائے قسری کے قشیری ہے۔
شرح
۱؎ یعنی فجرکی نماز پڑھنے والا اﷲ کی امان میں ایساہوتاہے جیسے ڈیوٹی کا سپاہی حکومت کی امان میں کہ اس کی بے حرمتی حکومت کامقابلہ ہے۔خیال رہے کہ کلمہ کی امان اورقسم کی ہے اورنماز کی امان اورقسم کی،لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔ ۲؎ یعنی ایسا نہ ہوکہ تم نمازی کوستاؤ اورقیامت میں سلطنت الہیہ کے باغی بن کرپکڑے جاؤ۔