روایت ہے حضرت رافع ابن خدیج سے فرماتے ہیں کہ ہم عصر کی نماز رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھتے تھے پھراونٹ ذبح کیاجاتاپھراس کے دس حصے کئے جاتے پھرپکایاجاتا ہم سورج ڈوبنے سے پہلے بھناگوشت کھالیتے ۱؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ تجربہ شاہد ہے کہ اہلِ عرب جانورذبح کرنے اورگوشت بنانے میں بہت تیز وماہرہیں۔فقیر نے اپنی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کیا ہے۔تو دومثل کے بعدعصر پڑھ کریہ سارے کام بخوبی ہوسکتے ہیں،خصوصًاگرمیوں میں کہ اس زمانہ میں وقت عصرقریبًا دوگھنٹہ ہوتا ہے،لہذا اس حدیث سے ایک مثل پرعصر پڑھنا ہرگز ثابت نہیں ہوتا،نیز جوان اونٹ کا گوشت جلدی گلتا ہے،اور بعض ماہر پکانے والے جلدی گلا لیتے ہیں،پاکستانی قصائی اورباورچی اتنے کام سارے دن میں نہیں کرسکتے۔