| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول |
روایت ہے حضرت ابوذرسے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سردی کے موسم میں تشریف لے گئے ۱؎ جب پتے جھڑرہے تھے تو حضورنے ایک درخت کی دو شاخیں پکڑلیں ۲؎ فرمایا کہ پتے جھڑنے لگے راوی فرماتے ہیں کہ فرمایا اے ابوذر! میں نے کہا حضور حاضر ہوں فرمایا کہ جب مسلمان بندہ اﷲ کی رضا کے لیئے نماز پڑھتا ہے تو اس کے گناہ ایسے ہی جھڑجاتے ہیں جیسےپتے اس درخت سے جھڑگئے۳؎ (احمد)
شرح
۱؎ مدینہ منورہ سے باہرکسی جنگل میں اور یہ موسم خزاں کا تھاجبکہ شاخیں ہلانے سے پتے جھڑجاتے ہیں اورویسے بھی پت جھاڑہوتارہتا ہے۔ ۲؎ غالبًایہ درخت کوئی جنگل خودروتھا جس کے پھل،پھول،پتے ہرراہ گیرتوڑسکتا ہے۔اورہوسکتا ہے کہ درخت آپ کااپناہویاکسی ایسے شخص کا ہو جو حضور کے اس عمل شریف سے راضی ہو،ورنہ دوسرے کے درخت سے بلااجازت پتے وغیرہ جھاڑنا ممنوع ہے۔(مرقاۃ) ۳؎ یعنی اخلاص کی نمازموسم خزاں کی اس تیزہوا کی طرح ہے جوپت جھاڑکردیتی ہے۔پہلے عرض کیاجاچکاہے کہ یہاں گناہوں سے صغیرہ گناہ مرادہے۔