۱؎ یہ حدیث پچھلی حدیث کے خلاف نہیں ایک چیز کی بہت سی علامتیں ہوتی ہیں کبھی ساری بیان کردی جاتی ہیں کبھی کم و بیش لہذا وہ تین بھی نفاق کی علامتیں تھیں اور یہ چار بھی۔
۲؎ منافق عملی یعنی منافقوں کے سے کام کرنے والا جیسے رب فرماتا ہے:"اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَلَا تَکُوۡنُوۡا مِنَ الْمُشْرِکِیۡنَ " یا حضور فرماتے ہیں۔"مَنْ تَرَكَ الصَّلوٰۃَ مُتَعَمِّدًافَقَدْکَفَرَ"یعنی بے نمازی ہونا کفرعملی ہے۔(کافروں کا ساکام)
۳؎ اس سے ان لوگوں کو عبر ت پکڑنی چاہئیے جن کے ہاں تبرّا اور گلیاں بکنا عبادت بلکہ اصل ایمان ہے اسلام میں شیطان فرعون و ہامان کو بھی گالیاں دینا براہے کہ اس میں اپنی ہی زبان گندی ہوتی ہے۔