۱؎ اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ اپنی بیوی کا جھوٹھا کھانا پینا جائز ہے بلکہ سنت سے ثابت ہے۔فقہاءجومردکوعورت کا جھوٹھا کھانا منع کرتے ہیں وہاں اجنبی عورت مراد ہے۔لہذا وہ مسئلہ اس حدیث کے خلاف نہیں۔دوسرے یہ کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پاک نہایت سادہ اور بے تکلف تھی امت کو سادگی اختیار کرنی چاہیئے۔تیسرے یہ کہ ہڈی منہ سے چوسنا سنت ہے،کانٹے سے کھانا طریقہ نصاریٰ ہے۔چوتھے یہ کہ حضرت عائشہ صدیقہ وہ خوش نصیب بی بی ہے کہ بارہا انکا لعاب حضور کے لعاب کے ساتھ جمع ہوا،خصوصًا وفات شریف کے وقت مسواک میں۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ہڈی چوسنا،گوشت چوسنا،گوشت چھوڑانے کے لئے نہ ہوتا تھا وہ تو پہلے چھوٹ چکا ہوتا تھا بلکہ محبوبیت ظاہر فرمانے کے لئے۔