| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول ا ﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جومیت کوغسل دے وہ خودبھی غسل کرے ۱؎(ابن ماجہ)احمدوترمذی نے یہ بھی زیادہ کیا کہ جومیت کو اٹھائے وہ وضو کرے ۲؎
شرح
۱؎ عام علماء کے نزدیک یہ حکم استحبابی ہے۔میت کو نہلا کر غسل کر لینا بہتر ہےکیونکہ میت کے غسالہ کے چھینٹے جسم پر پڑھنے کا احتمال ہے۔جامع اصول میں ہے کہ حضرت ابوبکرصدیق کی زوجہ اسماءبنت عمیس نے صدیق اکبرکی وفات کے بعدغسل دیاپھرصحابہ سے بولیں کہ میں روزے دارہوں اور ٹھنڈک بہت ہے کیا مجھے غسل کرنا ضروری ہے؟سب نے کہا نہیں۔ ۲؎ اٹھانے کی وجہ سے نہیں بلکہ نماز جنازہ کے لئے کہ میت کے جنازہ گاہ میں پہنچتے ہی نمازجنازہ میں شرکت کرسکے۔