| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول |
روایت ہے حضرت عمران سے فرماتے ہیں کہ ہم حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے کہ آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی جب نماز سے فارغ ہوئے تو ایک شخص کو دیکھا جو الگ تھا قوم کے ساتھ نماز نہ پڑھی فرمایا اے فلاں تجھے قوم کے ساتھ نماز پڑھنے سے کس نے روکا ۱؎ عرض کیا مجھے جنابت پہنچی اورپانی ہے نہیں تو فرمایا تیرے لیے مٹی ہے۲؎ وہ تجھے کافی ہے۳؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی تو نے جماعت کے ساتھ نماز کیوں نہ پڑھی؟اس عتابانہ سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت نماز سے علیحدہ بیٹھا رہنا برا ہے اسی لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ جو جماعت سے نماز نہ پڑھ سکے وہ جماعت اولٰی کے وقت جماعت کی جگہ نہ بیٹھے کہ اس میں جماعت سے روگردانی ہے بلکہ وہاں سے چلا جائے۔ ۲؎ امام شافعی یہاں صعید کے معنی مٹی کرتے ہیں،ان کے نزدیک تیمم صرف مٹی سے ہوسکتا ہے۔امام اعظم و امام مالک صعید کے معنی روئے زمین کرتے ہیں(مَاصَعِدَ عَلَی الْاَرْضِ)،اس لئے ان دو بزرگوں کے ہاں ہر جنس زمین سے تیمم جائز۔ان دو بزرگوں کی دلیل بخاری شریف کی حدیث جابر ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"وَجُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضُ مَسْجِدًاوَّطُھُوْرًا"اس میں ہرقسم کی زمین کو مطہر قراردیا گیا۔بخاری شریف کی یہ حدیث "صعید"اورپچھلی حدیث جس میں"تربت" کاذکرہوا،کی تفسیر ہے۔ ۳؎ غالبًا ان صاحب کوتیمم کا طریقہ آتا تھا مگر یہ خبر نہ تھی کہ تیمم جنابت سے بھی ہوجاتا ہے،اس لئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں طریقہ نہ بتایا۔