روایت ہے حضرت یحیی ابن عبدالرحمان سے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر اس قافلہ میں تشریف لے گئے جن میں حضرت عمرو ابن عاص تھے حتی کہ ایک حوض پر پہنچے تو عمرو نے کہا اے حوض والے کیا تیرے حوض پر درندے ہوتے ہیں؟۱؎ تو حضرت عمر ابن خطاب نے فرمایا اے حوض والے نہ بتانا کیونکہ ہم درندوں پر اور درندے ہم پر آتے ہیں۲؎ (مالک)اور رزین نے یہ بھی زیادہ کیا کہ کہا کہ بعض راویوں نے حضرت عمر کے فرمان میں یہ بڑھایا کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو درندے اپنے پیٹوں میں لے گئے وہ ان کا اور جو بچ رہا وہ ہماراپانی بھی ہے اورطہارت بھی ۳؎
شرح
۱؎ یعنی اگر درندے اس سے پانی پیتے ہوں تو ہم اس سے نہ وضو و غسل کریں اور نہ پیئیں۔انہیں آب قلیل و کثیر کا فرق معلوم نہ تھا ۔ ۲؎ یعنی چونکہ یہ پانی کثیر ہے لہذا کسی جانور کے پی جانےسے نجس نہیں ہوتا اورکسی گندگی کے پڑ جانے سے گندا نہیں ہوتا،تاوقتکہق پانی کی بو یا مزا اور رنگ گندگی کی وجہ سے نہ بدلے۔یہ حدیث گزشتہ حدیث جابر کی تفسیر ہے،اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کی قوی دلیل ہے۔۳؎ اس جملے میں بھی آب کثیر ہی مراد ہے۔لہذا یہ حدیث ہماری دلیل ہے نہ کہ شوافع کی۔امام شافعی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث مطلق پانی کے لئے ہے تھوڑا ہو یا بہت مگر یہ توجیہ اگلی آنے والی حدیث کے خلاف ہے۔ نیز فصل ثانی کے شروع میں گزر گیا کہ جب پانی دو قلے ہو تو درندوں کے پینے سے ناپاک نہ ہوگا اگر درندوں کا جھوٹاپاک ہے تو وہاں دوقلوں کی قیدکیوں ہے۔