| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول |
روایت ہے حضرت ابوداؤد ابن صالح ابن دینار سے وہ اپنی والدہ سے راوی کہ ان کی مالکہ نے انہیں ہریسہ دے کر حضرت عائشہ کے پاس بھیجا ۱؎ میں نے آپ کو نماز پڑھتے پایا مجھے اشارہ کیا کہ رکھ دو۲؎ ایک بلی آئی جو اس میں سے کھاگئی جب حضرت عائشہ نماز سے فارغ ہوئیں تو آپ نے وہاں سے ہی کھایا جہاں سے بلی نے کھایا تھا۔فرمانے لگیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلی نجس نہیں وہ تو تم پر گھومنے والوں سے ہے۳؎ اور میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ بلی کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرتے تھے۴؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ داؤد ابن صالح مدنی ہیں،جلیل القدر تابعی ہیں،ابو قتادہ انصاری کے آزادکردہ غلام ہیں،آپ کی والدہ بھی کسی کی آزاد کردہ لونڈی تھیں۔ہر یسہ ہرس سے بنا بمعنی سخت کوٹنا عرب کا مشہور حلوہ ہے۔ ۲؎ انگلی سے اشارہ کیایا سر کی حرکت سے نماز میں بوقت ضرورت اتنا ہلکا سا اشارہ جائز ہے۔ ۳؎ اس میں بھی حضرت عائشہ صدیقہ کا اجتہاد ہے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی کے جسم کو پاک فرمایا،لعاب یا جوٹھے کا ذکر نہیں کیا۔ ۴؎ یہ جملہ امام اعظم رحمۃ اﷲ علیہ کے خلاف نہیں کیونکہ اس سے وضو صرف مکروہ تنزیہی ہے۔حضور نے بیان جواز کے لیے کیا اورممکن ہے کہ دوسرا پانی نہ ہونے پر اس سے وضو کیا گیا ہو۔