| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرمایا ایک شخص نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیاعرض کیا یارسول اﷲ ہم سمندر میں سوار ہوتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا پانی لے جاتے ہیں اگر اس سے وضو کرلیں تو پیاسے رہ جائیں تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کیا کریں ۱؎ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سمندرکاپانی پاک ہے۲؎ اور اس کا مردارحلال۳؎(مالک،ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)
شرح
۱؎ سائل کو شبہ یہ تھا کہ سمندرکاپانی سخت کڑوا ہے پینے کے قابل نہیں لہذا اس آیت کے تحت نہیں آتا:"وَ اَنۡزَلْنَامِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَہُوۡرًا"کیونکہ بارش کا پانی میٹھا اورمطہرہے اورسمندر کا پانی میٹھانہیں تو چاہیئے کہ مطہربھی نہ ہو۔ ۲؎ یعنی سمندر کے پانی کا یہ مزہ اصلی ہےیا زیادہ ٹھہرنے کی وجہ سے کسی نجاست نے اس کا مزہ نہیں بدلالہذا پاک بھی ہے،مطہربھی۔خیال رہے کہ اگر کنوئیں کا پانی بہت ٹھہرارہنے کی وجہ سے بدمزہ یابدبودارہوجائے تو پاک رہے گا۔ ۳؎ احناف کے نزدیک اس کے یہ معنی ہیں کہ مچھلی کو ذبح کرنا ضروری نہیں۔اگر ہمارے پاس آکر مرجائے یا سمندر کی موج اسے کنارے پر پھینک جائے جس سے وہ مرجائے تو حلال۔لیکن اگر اپنی بیماری سے مرکر پانی پر تیر جائے تو حرام کیونکہ اب وہ سمندر کا مردار نہیں،بلکہ بیماری کا مردار ہے،بعض آئمہ نے اس کے معنی یہ سمجھے کہ پانی کا ہر جانور حلال حتی کہ مینڈک کچھو ا وغیرہ بھی مگر یہ معنی درست نہیں کیونکہ دریائی انسان اور دریائی سورکو وہ بھی حرام جانتے ہیں۔تو انہیں بھی حدیث میں قید لگانی پڑے گی۔