۱؎ یہاں بھی فرشتوں سے مراد رحمت کے فرشتے ہیں۔کافر مردار سے کافر کا جسم مرادہے زندہ ہو یا مردہ،یعنی کفار کے پاس رحمت کے فرشتے نہیں آتے اسی لئے کفار کے مجمع میں نماز نہ پڑھے،کفارکو نماز استسقاء کے لیے ساتھ نہ لے جائے۔خلوق اس خوشبو کا نام ہے جس میں زعفران وغیرہ ہوتے ہیں اس کا رنگ ظاہر ہوتا ہے۔مردوں کو صرف ایسی خوشبو لگانی چاہیئے جو خوشبو دے رنگ نہ دے یہاں مردوں کے لئے ممانعت مقصود ہے،عورتیں اس حکم سے علیحدہ ہیں۔(مرقاۃ وغیرہ)یونہی جنبی سے مراد وہ جنبی ہے جو ناپاک رہنے کا عادی ہو،نماز کے اوقات میں گندا رہے۔لہذا حدیث بالکل واضح ہے۔دوسری احادیث سے متعارض نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ رات میں جنبی ہونے والا اگر یوں ہی بغیر وضو کئے سوجائے تو رحمت کے فرشتے نہ آئیں گے،وضو کرکے سونا چاہیئے۔