۱؎ یعنی جنابت وطہارت ہر حال میں زبان شریف سے کلمۂ طیبہ اورتمام وظائف وغیرہ پڑھا کرتے تھے کیونکہ جنابت میں صرف تلاوت قرآن حرام ہے۔
لطیفہ: مجھ سے ایک شخص نے سوال کیا کہ جنابت میں درود شریف سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے نام کی بے ادبی ہوگی،میں نے جواب دیا کہ اگر سمندر میں گندہ آدمی نہالے تو گندہ پاک ہوجاتا ہے سمندر ناپاک نہیں ہوتا۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا نام پاک سمندر ہے ہم گندے ہیں،نیز جو عورتیں حیض و نفاس کی حالت میں مرتی ہیں انہیں مرتے وقت کلمہ اور درود کی بلاشبہ اجازت ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور علیہ السلام ذکر زبانی جہری کرتے تھے جبھی تو آ پ سنتی تھیں۔خیال رہے کہ حضرات قادریہ و چشتیہ وغیرہم کے ہاں ذکر بالجہر افضل ہے ان کا ماخذ یہ حدیث بھی ہوسکتی ہے۔
۲؎ یعنی مصابیح میں وہ حدیث اسی مقام پرتھی مگرصاحب مشکوٰۃ نے اسے مناسبت کی وجہ سے وہاں ذکر کیا جس میں فرمایا گیا کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے بغیروضو کئے کھانا تناول فرمالیا۔