| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول |
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں کہ ایک بدوی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوکروضو کے متعلق پوچھنے لگے تو آپ نے اسے تین باروضوکرکے دکھایا اورفرمایاوضو یوں ہی ہے جو اس پر زیادتی کرے اس نے گناہ کیا تعدی کی اور ظلم کیا ۱؎ اسے نسائی ابن ماجہ نے روایت کیا ابوداؤد نے اس کے معنی کو۔
شرح
۱؎ گناہ تو ترک سنت کا ہوا،اور تعدی تین سے زیادہ کرنے پر کیونکہ دھونے کی حدتین بار ہے اور ظلم اپنی جان پر کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی،پانی میں اسراف کیا،اپنے نفس پر بے فائدہ مشقت ڈالی جو کوئی تین سے زیادہ کو سنت سمجھ لے تو اس کا اعتقاد بھی غلط ہوا۔بہرحال تین سے کمی ہوسکتی ہے زیادتی نہیں ہوسکتی،نیز تین بار دھونے میں سارے عضو کے دھل جانے کا یقین ہوجاتا ہے اس پر زیادتی شیطانی وسوسہ کی بناء پر ہوسکتی ہے۔