۱؎ یہ حدیث اپنے ظاہر پر ہے۔اورشیطان سے مراد وہ قرین ہے جوہروقت انسان کے ساتھ رہتا ہے،بیداری میں برے کام کے مشورے دیتا ہے،نیند میں ناک میں جا بیٹھتا ہے تاکہ دماغ میں برے خیالات پیدا کرے۔چونکہ ناک اس سے متلوّث ہو چکی لہذا وضو میں اسے بھی دھولیا جائے۔خیال رہے کہ جیسے ناک جھاڑنا ہروضو میں سنت ہے نیند کے بعدہوایااور وقت،ایسے ہی کلائی تک ہاتھ دھونا بھی ہر وضو میں سنت ہےکیونکہ یہ علتِ حکم نہیں بلکہ حکمتِ حکم ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ جہاں گندا آدمی بیٹھ جائے وہ جگہ دھو دینا بہتر ہے کہ وضومیں ناک اسی لئے دھوئی گئی کہ اس میں گنداشیطان بیٹھ گیا تھا۔