۱؎ اس سےمعلوم ہوا کہ نبی امتی سے،پیرمرید سے،استاد شاگرد سے،باپ اپنے بیٹے سے خدمت لے سکتا ہے۔اور ان لوگوں کا رضاء کارانہ طور پر بزرگوں کی خدمت کرنا سعادت مندی ہے۔
۲؎ تاکہ مٹی سے ہاتھ مانجھ کر بو دفع کردی جائے لہذا استنجے کے بعدصابون وغیرہ سے ہاتھ دھونا سنت سے ثابت ہے۔خیال رہے کہ حضور کا یہ فعل شریف بھی امت کے لیے ہے ورنہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے فضلات میں بدبو نہ تھی حتی کہ ایک بی بی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پیشاب دھوکہ میں پی لیا جیسا کہ اس کے موقع پر ذکر کیا جائے گا۔ان شاءاﷲ!
۳؎ اکثر نہ کہ ہمیشہ،جیساکہ دوسری روایات سے ثابت ہے۔چونکہ برتن چھوٹا تھا استنجے کے بعد وضو کے لائق پانی نہیں بچتا تھا،اس لیے دوسرے برتن سے وضو فرماتے تھے ورنہ استنجے کے بچے ہوئے پانی سے وضو جائز ہے۔