۱؎ یعنی حضور انگوٹھی پہنے پاخانہ میں نہ جاتے بلکہ یا تو اتار کر باہر ہی رکھ جاتے یا جیب میں ڈال لیتے تھے،کیونکہ اس میں لکھا تھا محمد رسول اﷲ۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جس چیز میں اﷲ تعالٰی یا انبیائے کرام کا نام لکھا ہواس کا ادب کرے،اسے گندگی میں نہ ڈالے،پاخانہ میں نہ لے جائے،جیسے تعویذ وغیرہ جس میں اسمائے الہیہ یا آیات قرآنیہ ہوں۔دوسرے یہ کہ اگر یہ چیزیں غلاف میں ہوں تو پھر لے جانا جائز ہے،اسی لئے تعویذ کا موم جامہ کرلیتے ہیں اور مقطعات قرآنیہ کی انگوٹھی پر شیشہ یا کانچ لگا لیتے ہیں۔(مرقاۃ وغیرہ)
۲؎ کیونکہ اس کی اسناد میں ابو عبداﷲ ھمام ابن یحیی ابن دینار رازدی ہیں،مگر ہمام کی مسلم و بخاری نے توثیق و تعریف کی اسی لیے ترمذی نے اسے حسن و صحیح فرمایا۔غرض کہ ہمام میں اختلاف ہے،بعض نے ان پر جرح کی،بعض نے توثیق تعدیل،اور جب جرح و تعدیل میں اختلاف ہو تو تعدیل کا اعتبار ہوتا ہے،لہذا یہ حدیث صحیح قابل سند ہے۔