۱؎ یعنی جن دو کاموں کی وجہ سے لوگ کرنے والے کو طعن لعن کرتے ہیں ان سے پرہیز کرو۔
۲؎ یعنی راستہ عام طور پر جہاں مسلمانوں کا گزر گاہ ہو وہاں پاخانہ نہ کرو،یوں ہی جس سایہ میں لوگ دھوپ کیوقت عمومًا بیٹھتے لیٹے ہوں وہاں نہ کرو کہ اس سے رب تعالٰی بھی ناراض ہوتا ہے،لوگ بھی برا کہتے ہیں۔لہذا یہ حدیث اس روایت کے خلاف نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نخلستان میں حاجت قضا فرمائی کیونکہ وہ جگہ لوگوں کے آرام کی نہ تھی۔مرقاۃ نے فرمایا کہ پانی کے گھاٹ اورگزر گاہ عوام پر پاخانہ نہ کرے اور کسی کی ملک زمین میں اس کی بغیر اجازت نہ کرے۔