۱؎ سورۂ نساءاورسورۂ مائدہ میں آیت کریمہ ہے:"اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنۡکُمۡ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْلٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوۡا مَآءً فَتَیَمَّمُوۡا صَعِیۡدًا طَیِّبًا"یعنی اگر کوئی تم میں سے پاخانے سے آئے یا تم عورتوں کو چھوؤ اور نہ پاؤ پانی،تو پاک مٹی سے تیمم کرلو۔امام شافعی کے نزدیک یہاں لمس کے معنی فقط عورت کو ہاتھ لگانا ہیں کہ اس سے ان کے ہاں وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ہمارے ہاں لمس سے مراد صحبت کرناہے جس سے غسل واجب ہوتا ہے۔اورہوسکتا ہے کہ مباشرت مراد ہو،یعنی ننگا چپٹنا جس سے وضو واجب ہوتا ہے۔حضرت ابن عمر چھونے اور بوسہ کو لمس فرمارہے ہیں۔لہذا یہ حدیث امام شافعی رحمۃ اﷲ علیہ کی دلیل ہے۔اس کا جواب ان شاءاﷲ ہم ابھی آگے دے رہے ہیں۔