| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول |
روایت ہے حضرت طلق ابن علی سے فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا کہ جو وضو کے بعد عضو خاص کو چھوئے فرمایا وہ بھی تو جسم انسانی کا ہی حصہ ہے ۱؎ ابوداؤد،ترمذی،نسائی اور ابن ماجہ نے اس کی مثل روایت کیا اور شیخ امام محی السنۃ نے فرمایا کہ یہ حکم منسوخ ہے،کیونکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ طلق کے آنے کے بعد اسلام لائے۔
شرح
۱؎ یعنی جیسے ناک،انگلی وغیرہ جسم کے اعضاء ہیں کہ ان کے چھونے سے وضو نہیں جاتا،ایسے ہی یہ بھی ایک عضو ہے کہ اس کا چھونا وضو نہیں توڑے گا۔یہ حدیث ہمارے امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ اس عضو کے چھونے سے وضو نہیں جاتا۔حضرت علی المرتضی،حضرت ابن عباس،عمارابن یا سر،حذیفہ،سعد،عبداﷲ ابن مسعود وغیرہم بہت صحابہ کا یہی مذہب ہے۔چنانچہ علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ناک،کان چھوؤں یا یہ عضو،برابرہی ہے۔حضرت سعد سے یہ مسئلہ پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اگر نجس ہے تو اسے کاٹ ڈالو۔اس کی پوری بحث طحاوی شریف اورصحیح البہاری وغیرہ میں دیکھو۔