شیخ امام محی السنۃ نے فرمایا کہ یہ اس کے لیئے ہے جو بیٹھا نہ ہوکیونکہ حضرت انس سے روایت صحیح مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نماز عشاء کا انتظار کرتے تھے حتی کہ ان کے سرجھک جاتے تھے پھرنماز پڑھ لیتے اور وضو نہ کرتے تھے ۱؎ اسے ابوداؤد اورترمذی نے روایت کیا مگر ترمذی نے بجائے "ینتظرون العشاء"الخ کے یہ فرمایا کہ وہ سوجاتے تھے۔
۱؎ لہذا جس نیند میں اعضاءڈھیلے نہ پڑیں اس سے وضو نہیں جاتا،اسی لئے کہا جاتا ہے کہ اگر عورت سجدے میں سوجائے تو وضو گیا اور اگر مرد سجدے میں سوجائے تو وضو نہیں جاتاکیونکہ مردسجدے میں غافل نہیں سوسکتا ورنہ گرجائے گا۔