۱؎ آپ مشہور صحابی ہیں،آپ امیرمعاویہ کی طرف سے حاکم مصر تھے اپنے بھائی عتبہ ابن ابی سفیان کے بعد،پھر اگرچہ معزول کردیئے گئے مگر مصر میں ہی قیام رہا، ۵۸ھ میں وہیں وفات ہوئی۔
۲؎ یعنی ظاہروباطن یکسو کرکےکہ نہ جسم سے کھیلے،نہ ادھر ادھر دیکھے،نہ دل کو اورطرف لگائے۔
۳؎ رب کے فضل وکرم سے اس طرح کہ دنیا میں اسے نیک اعمال کی توفیق ملتی ہے،مرتے وقت ایمان پر قائم رہتا ہے،قبروحشر میں آسانی سے پاس ہوتا ہے۔حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ صرف وضوکرلینے اور تحیۃ الوضوء کے دونفل پڑھ لینے سےجنتی ہوگیا اب کسی عمل کی ضرورت نہ رہی اس قسم کی احادیث کا یہی مطلب ہوتا ہے۔