۱؎ اس حدیث کے بہت پہلو ہیں:چالیس حدیثیں یادکرکے مسلمان کو سنانا،چھاپ کر ان میں تقسیم کرنا،ترجمہ یا شرح کرکے لوگوں کوسمجھانا،راویوں سے سن کر کتابی شکل میں جمع کرنا،سب ہی اس میں داخل ہیں۔یعنی جو کسی طرح دینی مسائل کی چالیس حدیثیں میری امت تک پہنچادے تو قیامت میں اس کا حشر علمائے دین کے زمرے میں ہوگا اور میں اس کی خصوصی شفاعت اور اس کے ایمان اور تقوےٰ کی خصوصی گواہی دوں گا ورنہ عمومی شفاعت اور گواہی تو ہرمسلمان کو نصیب ہوگی۔اسی حدیث کی بنا پر قریبًا تمام محدثین نے جہاں حدیثوں کے دفتر لکھے وہاں علیحدہ چہل حدیث جسے"اربعینیہ"کہتے ہیں جمع کیں۔امام نووی اور شیخ عبدالحق دہلوی کی اربعینیات مشہور ہیں۔فقیر نے بھی اپنی کتاب "سلطنت مصطفی"میں چالیس حدیثیں جمع کی ہیں۔