۱؎ یہ حدیث گزشتہ احادیث کی شرح ہےجس میں فرمایا گیا کہ علم دین رضائے الٰہی کے لیئے حاصل کرو اسے صرف دنیا حاصل کرنے کا ذریعہ نہ بناؤ۔دنیا کے سامان سے روپیہ پیسہ بھی مراد ہے اور دنیوی عز ت و جاہ بھی۔مرقاۃ نے فرمایا کہ علم دین کے ذریعے دنیا حاصل کرنے کی دو صورتیں ہیں:ایک یہ کہ دنیا اصل مقصود ہو اور علم دین محض اس کا وسیلہ یہ سخت برا ہے وہی یہاں مراد ہے۔دوسرے یہ کہ علم دین سے دین ہی مقصود ہو مگر تبعًا دنیا بھی حاصل کی جائے تاکہ فراغت سے خدمت دین ہوسکے یہ ممنوع نہیں،کیونکہ اب دین مقصود ہے اور دنیا اس کا وسیلہ۔فقیر عالم کا وعظ دلوں میں موثر نہیں ہوتا۔حضرات خلفائے راشدین نے خلافت پر تنخواہیں لیں۔جہاد کا بھی یہی حکم ہے کہ اگر فقط غنیمت کے لئے کرتا ہے تو برا اور اگر تبلیغ دین کے لئے ہے اور غنیمت و ملک اس کا وسیلہ ہے تو اچھا ہے۔
۲؎ یعنی اولًا اگرچہ ریا کاری کی سزا بھگت کریا حضور کی شفاعت کے ذریعہ معافی ہوجائے گی۔