۱؎ آپ تابعی ہیں،طائف شریف کے رہنے والے ہیں،متقی پرہیزگار ہیں لہذا یہ حدیث مرسل ہے کہ اس میں صحابی کا ذکر نہیں۔
۲؎ یہاں بدعت سے مراد دینی بدعت ہے اور صاحب بدعت بے دین شخص اور توقیر سے اس کی بلا ضرورت تعظیم مراد ہے۔ضروریات کی معافی ہے یعنی بے دینوں کی تعظیم اسلام کو ویران کرنا ہے کہ ہماری تعظیم سے عوام کے دل میں ان کی عقیدت پیدا ہو گی جس سے وہ ان کا شکار ہوجائیں گے جیسے مسلمانوں کی تعظیم ثواب ہے،ایسے ہی بے دین کی توہین ثواب کہ وہ دشمن ایمان ہے۔"باب القدر"میں گزر چکا کہ سیدنا عبداﷲ ابن عمر نے ایک قدریہ مذہب رکھنے والے کے سلام کا جواب نہ دیا وہ عمل اس حدیث کی تفسیر ہے۔