۱؎ خیال رہے کہ یہاں احکام سے مرادتبلیغ اور سنن ونوافل وغیرہ ہیں نہ کہ فرائض و واجبات،یعنی آج چونکہ تبلیغ اور ساری نیکیوں کے لیئے کوئی رکاوٹ نہیں اب کچھ بھی چھوڑنا اپنا قصور ہے۔آخر زمانہ میں رکاوٹیں بہت ہوں گی اس وقت آج کے لحاظ سے دسواں حصہ پر عمل کرنا بڑی بہادری ہوگی۔لہذا حدیث صاف ہے اس پر یہ اعتراض نہیں کہ اب ایک ہی نماز اور ہزاروں حصہ زکوۃ اور رمضان کے تین روزہ کافی ہیں یا یہ مناسبت مجموعی احکام کے لحاظ سے ہے۔چنانچہ آج اسلامی جہاد قضاء کے احکام پر پورا عمل ناممکن ہے ہم چور کے ہاتھ نہیں کاٹ سکتے،زانی کو سنگسار نہیں کرسکتے وغیرہ۔