۱؎ یہاں توریت کی وہ آیتیں مراد ہیں جن کا سچ اورجھوٹ ظاہر نہ ہو ورنہ اگر اہل کتاب حضرت مسیح یاحضرت عزیر کی الوہیت کی آیتیں پیش کریں تو یقینًا جھوٹی کہی جائیں گی۔منشائے حدیث یہ ہے کہ توریت و انجیل کچھ صحیح بھی تھیں،کچھ ملاوٹی بھی لہذا ہر آیت میں سچ جھوٹ کا احتمال تھا،اسی لئے احتیاطًا یہ حکم دیا گیا۔خیال رہے کہ اب ان کتابوں کی ایک بھی اصلی آیت موجود نہیں یہ ترجمے کلام الٰہی نہیں ہیں۔
۲؎ تاکہ اصل کتاب کا انکار نہ ہوجائے اور نہ غیر کتاب کا اقرار۔خیال رہے کہ یہ حکم اولًا تھا بعد میں تو حضور نے عمر فاروق جیسے صحابہ کو توریت پڑھنے سننے سے ہی منع فرمادیا اور فرمایا کہ میرے پاس کیا نہیں ہے جو تم توریت میں ڈھونڈتے ہو اگر موسیٰ علیہ السلام بھی موجود ہوتے تو میری پیروی کرتے۔