Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد اول
134 - 728
حدیث نمبر :134
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں  فرمایا رسول اﷲصلی اللہ  علیہ وسلم  نے کہ یہ وہ ہیں جن کے لیئے عرش ہل گیا،اور ان کے لیئے آسمان کے دروازے کھولے گئے ۱؎  اور ان پر ستر ہزار فرشتے حاضر ہوئے ۲؎ بے شک چپٹائے گئے چپٹایاجاتا پھراﷲ نے ان کے لیے آسانی کردی۳؎(نسائی)
شرح
۱؎  یعنی سعد ابن معاذ کے لیئے آسمان کے دروازے کھلے،وہاں کے فرشتوں نے ان کی روح کا استقبال کیا اور ان کی روح کے پہنچنے پر عرش اعظم خوشی میں ہلا آسمان سے فرشتے اور رحمتیں اتریں۔مرقاۃ میں فرمایا کہ مؤمنین کی ارواح جنت میں رہتی ہیں جو ساتویں آسمان کے اوپر ہیں۔

۲؎   اﷲ کی رحمتیں لےکر یا ان کے جنازے میں شرکت کرنے کے لیئے۔

۳؎  یہ عبارت گزشتہ حدیث کی تفسیر ہے جس سے معلوم ہورہا ہے کہ یہ تنگی عذاب قبر نہ تھی بلکہ قبر کی رحمت تھی اور ا ن کے لیئے وحشت،بلی اپنے بچے کو بھی منہ میں دباتی ہے اور چوہے کوبھی مگر دونوں میں فر ق ہے۔
Flag Counter