تفریحاً کئے گئے شکار کا کھانا کیسا؟
سُوال:تو کیاتفریحاً شکار کھیلنے والے نے جو کچھ شکار سے حاصل کیا اس کا کھانا بھی حرام ہے؟
جواب:جو مچھلی یاحلال جانور شکار کیااُس کا کھانا حلال ہے صِرْف اس کا تفریحاً شکار کھیلنے کا فِعْل حرام ہے، اِس فِعْل سے سچّی توبہ کرنی واجِب ہے۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت امامِ اہلِسنّت، مُجدِّدِ دین وملّت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں :’’ رہی شکار کی ہو ئی مچھلی اِس کا کھانا ہر طرح حلال ہے اگرچِہ فِعْلِ شکار اُن (گُزَشتہ جواب میں مذکور) ناجائز صورَتوں سے ہوا ہو۔‘‘
(فتاوٰی رضویہ ج۲۰ص۳۴۳ )
مچھلی کے شکار کے دَرْدناک مَناظِر
بابُ المد ینہ (کراچی) میں ساحِلِ سمُندر (نَیٹی جَیٹی) پرچُھٹّی کے دِن مچھلی کے شکار کے بڑے ہی دردناک مَناظِر ہوتے ہیں ، کافی لوگ ڈور اور کانٹا لے کر سارا دِن شکار کھیلتے رہتے ہیں ۔ زِندہ کینچوے کے پھڑکتے ٹکڑے کانٹے میں پِروتے ہیں یا جھینگانُما ایک دریائی کیڑا کانٹے میں زِندہ اَٹکا کر ناجائز فعل کے مُرْتَکِب ہوتے ہیں ۔ وہاں ایک مخصوص قسم کی مچھلی پائی جاتی ہے اگر وہ پانی سے باہَر نکالی جائے تو غُبارے کی طرح پھول جاتی ہے اگر وہ کانٹے میں پھنس جائے تو بے چاری کو زِندہ ہی بُری طرح چیر پھاڑ ڈالتے ہیں اور جَہالت کی بِنا پر اس کو حرام مچھلی