Brailvi Books

مچھلی کے عجائبات
49 - 55
لانے کو جانا اپنی کسرِ شان سمجھیں یا نَرْم ایسے کہ دس قدم دھوپ میں چل کر مسجد میں نَماز کے لئے حاضِر ہو نا مصیبت جانیں ، وہ گَرْم دوپَہَر،گَرْم لُو میں گرْم ریت پر چلنا اور ٹھہرنا اور گَرْم ہوا کے تَھپیڑے کھانا گوارا کرتے اور دو دو پَہَر بلکہ دو دو دن شکار کے لئے گھر بار چھوڑے پڑے رہتے ہیں ! کیا یہ کھانے کی غَرَض سے جا تے ہیں ! حاشا وَکَلّا! (یعنی ہرگز نہیں ) بلکہ وُہی لَہْو و لَعِب (یعنی کھیل تماشا)ہے اور بِالْاتِّفاق حرام ۔ ایک بڑی پہچان یہ ہے کہ ان شکاریوں سے اگر کہئے مَثَلاً: ’’مچھلی،‘‘ بازار میں ملے گی وہاں سے لے لیجئے، ہرگز قَبول نہ کر سکیں گے یا کہئے کہ اپنے پاس سے لا دیتے ہیں ، کبھی نہ مانیں گے بلکہ شکارکے بعد خود اُس کے کھانے سے بھی چَنداں (یعنی کچھ ) غَرَض نہیں رکھتے، بانٹ دیتے ہیں ، تو یہ (شکار کیلئے) جانا یقینا وُہی تفریح و حرام ہے۔ 				(فتاوٰی رضویہ ج۲۰ ص۳۴۱  )

صَدرُالشَّریعہ، بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : ’’شکار کرنا ایک مُباح (یعنی جائز) فعل ہے مگر حرم یا اِحرام میں خشکی کاجانور شکار کرنا حرام ہے۱؎ ، اِسی طرح اگر شکار مَحْض لَہْو (یعنی کھیل) کے طور پر ہو تو وہ مُباح (یعنی جائز) نہیں ۔							(بہارِ شریعت ج۳ ص۶۸۰ ) 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱ ؎      مُحرِم(یعنی احرام والے) کیلئے ضرورتاً مچھلی کا شکار جائز ہے۔