جواب:تازہ مچھلی رونقدار اورچمکدار سی ہوتی اور اُس کی آنکھ کے ڈھیلے اُبھرے ہوئے ہوتے ہیں ، مچھلی کو ہاتھ کی انگلی سے دبا کر دیکھ لیجئے کہ نرم تو نہیں پڑ گئی ، تازہ مچھلی کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ اُس کے گلپھڑے گہرے لال رنگ کے ہوں گے مگرکھول کر غور سے دیکھنا ہو گا کیونکہ مُجرِمانہ ذِہْن کے مچھلی فروش دھوکا دینے کیلئے آج کل گلیپھڑوں پر لال رنگ یا خون لگا دیتے ہیں ۔گلپھڑے پیلے ہوں ، کھال بے رَونق سی ہو گئی ہو،گوشت نَرْم پڑ گیا ہو، بدبو زیادہ ہو اور آنکھیں دھنسی ہوئی ہوں تو سمجھ لیجئے کہ مچھلی باسی ہے۔
بطور تفریح مچھلی کا شکار کھیلناکیسا؟
سُوال: مچھلی کا شکار کھیلنا کیسا ہے؟
جواب:تفریحاً’’ شکارکھیلنا‘‘ حرام اور ضَرورتاً ’’شکارکرنا‘‘ جائز ہے۔ امامِ اہلِسنّت ، مُجدِّدِ دین وملَّت، مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں : ’’شکار کہ مَحْض شوقیہ بَغَرَضِ تفریح ہو، جیسے ایک قسم کا ’’کھیل‘‘ سمجھا جا تا ہے ۔ وَلِہٰذا ’’شکار کھیلنا ‘‘کہتے ہیں ۔ بندوق کا ہو خواہ مچھلی کا، روزانہ ہو خواہ گاہ گاہ (یعنی کبھی کبھی)،مُطْلَقاً بَاتفاق حرام ہے، حلال وہ ہے جو بَغَرَض کھانے یا دوا یا کسی اورنَفْع یا کسی ضَرر کے دَفْعْ کو(یعنی نقصان دُ ورکرنے کیلئے) ہو۔ آج کل کے بڑے بڑے شکا ری جو اتنی ناک والے ہیں کہ بازار سے اپنی خاص ضَرورت کے کھانے یا پہننے کی چیز