مچھلی کے ذبح نہ کرنے کی حکمت
سُوال:ـ مچھلی بغیر ذبح کھائی جاتی ہے اس میں کیا حکمت ہے؟
جواب: میرے آقااعلیٰ حضرت ، امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں :مچھلی اور ٹیری (ٹی ۔ڑی یعنی ٹِڈّی)میں خون ہوتا ہی نہیں کہ اس کے اِخراج (یعنی خارج کرنے ) کی حاجت ہو،غیردَمَوی(یعنی جس میں خون نہ ہو) جانوروں میں ہمارے یہاں صِرْف یہی دو حلال ہیں لہٰذا صِرْف یِہی بے ذَبح کھائے جاتے ہیں ۔ شافِعِیَّہ وغیرہُم کے نزدیک کہ اور دریائی جانور بھی کُل یابعض حلال ہیں وہ انھیں بھی بے ذَبْح جائز جانتے ہیں کہ دریا کے کسی جانور میں خون نہیں ہوتا۔ (فتاوٰی رضویہ ج۲۰ ص ۳۳۵ )
مچھلی کاخون پاک ہے یا ناپاک؟
سُوال: مچھلی کاخون پاک ہے یا ناپاک؟
جواب: پاک اورناپاک کامسئلہ تو اُس وَقْت کھڑا ہو گا جبکہ مچھلی میں خون بھی ہو، مچھلی کے اندر تو خون ہی نہیں ہوتا!سیاہی مائل سُرخ گاڑھا سا جومواد نکلتاہے وہ خون نہیں ہے !
مچھلی کا ہر جُز پاک ہے
سُوال: مچھلی کی کون کون سی چیزیں ناپا ک ہوتی ہیں ؟
جواب: مچھلی میں کوئی بھی چیز ناپا ک نہیں ۔