جِھینگا بِغیر صفائی کئے کھانا
سُوال:کیا کالی ڈوری نکالے بِغیر جھینگا کھانا گناہ ہے؟
جواب:گناہ تو نہیں البتّہ بہتر یِہی ہے کہ کالی ڈوری نکالدی جائے۔ فتاوٰی رضویہ شریف میں جھینگے کے حلال ہونے کی بحث کرتے ہوئے میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت ، مولانا شاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں ،’’اَنوارُ الاسرار ‘‘ میں ہے: ’’رُوبِیان (یعنی جھینگا)بَہُت چھوٹی مچھلی سُرخ رنگ ہوتی ہے۔‘‘ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ آگے چل کر مزید فرماتے ہیں : ’’ مِعْراجُ الدِّرَایَہ‘‘ میں صاف فرمایا کہ ایسی چھوٹی مچھلیاں جن کا پیٹ چاک نہیں کیا جاتا اور بے آلائش نکالے بھون لیتے ہیں امام شافِعی کے سوا سب اَئمّہ کے نزدیک حلال ہیں ۔( فتاوٰی رضویہ ج ۲۰ ص۳۳۸)
چھوٹی مچھلیاں بِغیر آلائش نکالے کھانا
سُوال:بہُت چھوٹی مچھلیوں کے پیٹ کی آلائش نکالنا دشوار ہوتاہے اگر بِغیر صفائی کئے کھالیں تو کیسا؟
جواب: جائز ہے۔دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1197 صَفْحات پر مشتمل کتاب ، بہارِ شریعت جلد3 صَفْحَہ325پر ہے: چھوٹی مچھلیاں بِغیر شکم چاک کئے(یعنی پیٹ صاف کئے کے بِغیر) بھون لی گئیں ان کا کھانا حلال ہے۔