صَدرُالشَّریعہ، بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی ’’بہار ِشریعت ‘‘جلد3صَفْحَہ325 پر فرماتے ہیں :جھینگے کے متعلِّق اختِلاف ہے کہ یہ مچھلی ہے یا نہیں اِسی بِنا پر اس کی حِلَّت وحُرمت (یعنی حلال و حرام ہونے ) میں بھی اختِلاف ہے بظاہِر اُس کی صورت مچھلی کی سی نہیں معلوم ہوتی بلکہ ایک قسم کا کیڑا معلوم ہوتا ہے لہٰذا اس سے بچنا ہی چاہیے۔
رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ
اعلٰی حضرت نے کبھی جِھینگا نہ کھایا
اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں : اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اِس فقیر اور اس کے گھر والوں نے عمر بھر (جِھینگا)نہ کھایا اور نہ اِسے کھائیں گے۔ (فتاوٰی رضویہ ج۲۰ ص۳۳۹) مفتیِ اعظم پاکستان حضرت علامہ مولانا وقارُ الدّین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ المُبِین کی خدمت میں سگِ مدینہ عفی عنہ حاضر تھا، برسبیلِ تذکِرہ مفتی صاحِب نے فرمایا: میں جھینگے نہیں کھاتا ، ایک بار گھر میں پکائے گئے تھے میں نے کہہ دیا کہ جھینگے کے سالن کا چمَّچ بھی میرے سالن میں نہ ڈالا جائے۔
جِھینگا کھانے سے کولیسٹرول میں اضافہ ہوتا ہے
جھینگا اگر کھاناہی ہو تواس کا چھِلکا اُتار کر اس کی پُشت کو لمبائی میں ابتِدا سے لے کر دُم تک اچّھی طرح چِیر کر کالی ڈوری نُما آلائش نکال دی جائے۔ جھینگے زیادہ نہ کھائے جائیں کہ ان میں کولیسٹرول کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔