Brailvi Books

مچھلی کے عجائبات
43 - 55
ملّت مولاناشاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن فرما تے ہیں :’’سرطان(یعنی کیکڑا) کھانا حرام ہے۔‘‘		(فتاوٰی رضویہ ج۲۴ ص۲۰۸)

جِھینگا کھانا کیسا ؟
سُوال:	جِھینگا کھانا کیسا ہے؟
جواب:جِھینگے کے مچھلی ہونے میں عُلَماء کا اختِلاف ہے، اسی بِناء پر اس کی حِلَّت و حُرمَت(یعنی حلال و حرام ہونے)میں بھی اختِلاف ہے۔ جن کے نزدیک جِھینگا مچھلی کی اَقسام میں سے ہے ان کے نزدیک حلال ہے اورجن کے نزدیک مچھلی کی اَقسام میں سے نہیں ان کے نزدیک حرام ہے۔میرے آقا اعلیٰ حضرت امامِ اہلِسنّت ،مجدِّدِ دین و ملّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن کی تحقیق ہے کہ جِھینگامچھلی ہی کی ایک قسم ہے ، چُنانچِہ فرماتے ہیں : ’’ہمارے (یعنی حنفی) مذہب میں مچھلی کے سِوا تمام دریائی جانور مطلقاً حرام ہیں تو جن( اہل تحقیق رَحمَہُمُ اللہُ السّلام) کے خیال میں جِھینگا مچھلی کی قِسم سے نہیں ان کے نزدیک حرام ہونا ہی چاہیے مگر فقیر (یعنی اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ) نے کُتُبِ لُغَت و کُتُبِ طِبّ و کُتُبِ عِلمِ حَیَوان میں بِالْاتِّفَاق تَصْریح دیکھی کہ وہ مچھلی ہے۔‘‘  جِھینگے کے مچھلی ہونے پر کثیر جُزْئِیّات نَقْل کرنے کے بعد آخِر میں فرمایا: بَہَرحال ایسے شُبہ و اختِلاف (جھینگے میں ہیں لہٰذا اس کے کھانے)سے بے ضَرورت بچناہی چاہیے۔	     (فتاوٰی رضویہ ج ۲۰ ص۳۳۶ تا۳۳۹)