جواب:مچھلی کے سر کی یخنی(سُوپ) فالج، لقوہ،عِرقُ النَّسا(یعنی لنگڑی کا درد جو کہ چَڈّے سے لے کر پاؤں کے ٹخنے تک پہنچتا ہے) اَعْصابی کمزوری ،پٹّھوں کی کمزوری، قبل ازوَقت بڑھاپا ، جوڑوں کا پُرانا درد، جسمانی اور اَعصابی کِھچائو اورقُوّتِ حافِظہ بڑھانے کیلئے نہایت مفید ہے۔ ایسے لوگ جو اپنی یادداشت بالکل کھوچکے ہوں یا جن کی یادداشت ختم ہونے کے قریب ہو وہ خواہ جوان ہوں یا بوڑھے یہ یخنی(سُوپ) ضَرور استعمال کریں ۔ اگر گرمی کے موسِم میں نامُوافِق محسوس کریں تو سردیوں میں استِعمال کریں ۔ اگر آپ کو بیان کردہ تمام بیماریوں میں سے کوئی مَرَض نہیں تب بھی اگر کچھ عرصہ مچھلی کے سر کا سوپ استعمال فرمائیں گے تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان بیماریوں سے تحفُّظ حاصل ہو گا ۔
مچّھلی اور قُوّتِ حافِظہ
سُوال: کیا مچھلی کا استِعمال قُوّتِ حافِظہ پر بھی اثر انداز ہوتا ہے ؟
جواب:جی ہاں ۔ خُصوصاًمچھلی کا تیل اورپھلوں کا استعمال قُوّت حافِظہ کیلئے مفیدہے ۔ماہِرین کی تحقیق کے مطابِق پھلوں ، سبزیوں اورمچھلی میں وٹامن سی اور فلیوونائیڈز (Flavonoids ) پائے جاتے ہیں جو جسم میں سوزش نہیں ہونے دیتے نِیزان میں پائے جانے والے ’’اومیگا تھری ‘‘دماغ کی بیرونی تہ کو سَوزش سے بچاتے ہیں جس کی وجہ سے یادداشت بھی مُتَأَثِّر نہیں ہوتی ۔ ماہرین نے 65 سال سے زائد عمر کے8085مرد وخواتین کو ان کے کھانے پینے کی اشیاء ، طرززندگی،