ہوتی ہے۔(حَیاۃُ الحَیَوان ج۲ ص۴۳،۴۴) ایک طِبّی تحقیق کے مطابق سردی سے ہونے والی کھانسی کا مچھلی سے بہتر کوئی علاج نہیں ۔
کیا مچھلی بالکل نہ کھانا مُضرِّ صحّت ہے؟
سُوال: مچھلی بالکل ہی نہ کھانا کہیں مُضِرِّ صحّت تو نہیں ؟
جواب:خیر یقینی طورپر تو کچھ نہیں کہا جا سکتا البتّہ ماہِرین کے تَأَثُّرات کے مطابِق مچھلی انسانی صِحّت کے لئے نہایت اَہَم غذا ہے، اس میں بعض ایسے اَجْزاء ہوتے ہیں جو کسی اور گوشت میں نہیں پائے جاتے، مثال کے طور پر اس میں آیوڈین (IODINE) ہوتا ہے جو کہ صحّت کے لئے نہایت اَھَمِّیَّت کا حامِل ہے اس کی کمی سے جسم کے غُدُودی نظام کا توازُن بگڑ سکتا ہے، گلے کے اَہَم غُدُود تھائیرائیڈ(Thyroid) میں سُقْم(یعنی خامی) پیدا ہوکر جسمانی نظام میں بَہُت سی خرابیاں پیدا ہو سکتی ہیں ۔وہ مَمالک جہاں سَمُندری غذا کا استعمال کم کیا جاتا ہے وہاں کے باشِندے عام طور پر ان بیماریوں کا شکار رہتے ہیں ۔ مچھلی بطور ِغذا استعمال کرنے والوں کی عمریں لمبی ہوتی ہیں ، یہاں تک کہ وہ مریض بھی اس کے فوائد سے محروم نہیں رہتے جو آخِری دَرَجے کے عارِضۂ قلب(یعنی دل کی بیماری) میں مبتَلا ہوتے ہیں ۔
ہفتے میں دو بارتو مچھلی کھا ہی لینی چاہئے
سُوال:مچھلی روزانہ ہی کھائی جائے یا کبھی کبھی؟