وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کوسجدہ کرنے سے انکار کی وجہ سے جب شیطان لعین کی شکل بگاڑ کرزمین پر پھینک دیا گیا تو اِس نے سَمُندر کا رُخ کیا ، اِسے سب سے پہلے مچھلی نظر آئی ، شیطان نے سیِّدُنا آدم صَفِیُّ اللہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی پیدائش کا واقِعہ سناتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہ خشکی اور پانی کے جانوروں کا شکار کریں گے ۔ مچھلی نے تمام دریائی جانوروں میں یہ بات پھیلا دی اِس وجہ سے اِسے بولنے کی صَلاحیَّت سے محروم کر دیا گیا ۔ (مُکاشَفۃُ الْقُلوب ص۷۱)
مچھلی کے طِبّی فوائد
کون سی مچھلی زیادہ مفید ہے؟
سُوال:کون سی مچھلی عُمدہ ہوتی ہے؟ مچھلی کے مزید کچھ طبّی فوائد بھی بتا دیجئے۔
جواب:عَلّامہ دَمِیْری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں : سب سے عمدہ مچھلی سمندر کی وہ چھوٹی مچھلی ہوتی ہے جس کی پیٹھ پر نقش ہوتے ہیں ، اِس کے کھانے سے بدن میں تازگی آتی ہے۔ مچھلی کھانے سے عُموماً پیاس زیادہ لگتی ہے، بلغم میں اضافہ ہوتاہے ہاں گرم مزاج والوں اور نوجوانوں کیلئے مچھلی کھانا مُفید ہے۔ اگر شرابی، مچھلی سُونگھ لے تو اس کانشہ اتر جائے اور وہ ہوش میں آجائے۔حکیم ابنِ سینا کا قول ہے: اگر مچھلی شہد کے ہمراہ کھائی جائے تو نُزُولُ الْماء(’’موتیا بِند‘‘ یعنی آنکھ میں پانی اتر آنے کا مَرَض جس سے بینائی جاتی رہتی ہے)کے مرض میں فائدہ ہوتا ہے نیز اِس سے نظر بھی تیز