فرماتے ہیں :پانی آسمان و زمین وغیرہ سے پہلے پیدا ہوا، عرش کے پانی پر ہونے کا یہ مطلب ہے کہ ان دونوں کے بیچ میں کوئی آڑ نہ تھی نہ یہ کہ پانی پر رکھا ہوا تھا ورنہ عرش تمام اَجسام سے بَہُت بڑا ہے۔ ‘‘[اشعہ ج۱ص۹۵] (مراٰۃ المناجیح ج۱ ص۹۰، ۹۱)
جنّت کی سب سے پہلی غذا
سُوال: جنّت کی سب سے پہلی غذا کیا ہو گی؟
جواب: بخاری شریف میں وارِد ایک فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ وَاٰلِہ وسلَّم کاحصّہ ہے: ’’پہلا وہ کھانا جسے جنّتی کھائیں گے وہ مچھلی کی کلیجی کا کَنارہ ہے۔‘‘(بُخاری ج ۲ ص۶۰۵حدیث۳۹۳۸) حضرت عَلَّامہعلی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ البَارِی اس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :بعض حضرات نے فرمایا کہ’’ یہ وہ مچھلی ہے کہ جس پر زمین ٹھہری ہوئی ہے ۔‘‘ اُس کی کلیجی کا مزیدار کنارہ کھلایا جا ئے گا،جو سب سے زیادہ لذیذ ہوتا ہے۔
(مِرقاۃ ج۱۰ ص ۱۸۹ تحتَ الحدیث ۵۸۷۰)
مچھلی بول نہیں سکتی اِس کی عجیب و غریب حکمت
سُوال:سارے جانوربولتے ہیں مگر مچھلی نہیں بولتی اِس میں کیا حکمت ہے؟
جواب:اس کی حکمت رب العزّت ہی جانتا ہے۔’’مُکاشَفَۃُ الْقُلُوب ‘‘ میں اِس کی یہ عجیب و غریب حکمت لکھی ہے: ’’ اللہ تَعَالٰی نے تمام جانوروں کو زَبان سے مشرَّف فرمایا ہے مگرمچھلی کو محروم کیا گیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ سیِّدُنا آدم صَفِیُّ اللہ عَلٰی نَبِیِّنا