Brailvi Books

مچھلی کے عجائبات
34 - 55
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے میرے نور (نورِ محمدی)کو پیدا فرمایا، اسی طرح دوسری اشیاء بھی پیدا ہونے کے لحاظ سے اپنی اپنی جِنْس(یعنی قِسْم) میں پہلی ہیں۔   (اَلْمَواہِب ج۱ ص ۳۸ )
قلم کے بارے میں وضاحت
سُوال: آپ کے جواب میں بیان کی گئی روایت میں قلم کا ذکرہے ، قلم کے بارے میں وضاحت درکار ہے۔
جواب:: جواباً دارالافتاء اہلسنت کے ایک مفتی صاحب کی تحقیق چند الفاظ کے ردّ وبدل کے ساتھ پیش کی جاتی ہے:قراٰنِ کریم کے پارہ29میں سُوْرَۃُ الْقَلَم ہے، اُس کی ابتدائی آیت: ’’نٓ وَالْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوۡنَ ۙ﴿۱﴾ ‘‘ کے تحت’’ تفسیر خزائنُ العِرفان ‘‘ میں ہے: ’’ اللہ تَعَالٰی نے قلم کی قَسم ذِکر فرمائی اس قلم سے مُراد یا تو لکھنے والوں کے قلم ہیں جن سے دینی دُنیوی مَصالِح و فوائد وابَستہ ہیں اور یا قلمِ اعلیٰ مراد ہے جونُوری قلم ہے اور اس کا طول فاصلہِ زمین و آسمان کے برابر ہے، اس نے بحکمِ الٰہی لوحِ محفوظ پر قیامت تک ہونے والے تمام اُمُور لکھ دیئے ۔‘‘
     (خزائن العرفان ص ۱۰۴۴ )
	مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ  الحَنّان مراٰۃ شرحِ مشکوۃمیں فرماتے ہیں: ’’قلم نے لوحِ محفوظ پر بحکمِ الٰہی واقعاتِ عالَم اَزَلی سے ابد تک ذرَّہ ذرَّہ،قطرہ قطرہ لکھ دیا ۔ خیال رہے کہ یہ تحریر اس لئے نہ تھی کہ ربّ کو بھول جانے کا خطرہ تھا بلکہ اس کا مَنشاء فرشتوں اور بعض محبوب انسانوں کو اس پر مُطّلَع کرنا تھا [ از مرقاۃ ج۱ص۲۵۷] مزید